May 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gtraina.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں بے روزگاری کی شرح میں ۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے اور مارچ کے آخر تک جنگ ختم نہ ہوئی تو یہ مزید بڑھ سکتی ہے۔ دریں اثناء بیت بیچڈول نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ برطانوی ڈاکٹر نک مینارڈ نے کہا کہ غزہ کے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں۔

Photo:X

تصویر: ایکس

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں محصور خطے اور مغربی کنارہ میں بے روزگاری کی شرح ۵۰؍ فیصد بڑھ گئی ہے۔پیر کو ادارے کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ سال ۷؍ اکتوبر، جب سے اسرائیل نے غزہ میں اپنے حملے شروع کئے ہیں، سے اب تک غزہ میں نصف ملین سے زائد ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ جنگ مارچ کے آخر تک جاری رہی تو بے روزگاری کی شرح ۵۷؍ فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے عرب ممالک کیلئے مقامی ڈائریکٹر روبا جاردات نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور اسکولوں کی تباہی، اسپتال، اسپتال اور بزنس کمپنیوں کے خاتمے نے غزہ کے مکمل معیشت کے سیکٹر کو تباہ کر دیا ہے اور لیبر مارکیٹ سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہےجس کے فلسطینیوں کی نسلوں پر غیر معمولی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔غزہ میں تقریباً ۲؍ لاکھ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں جو خطے میں مکمل ملازمتوں کی شرح کا دو تہائی حصہ ہے۔ رپورٹ میں مغربی کنارہ کے تعلق سے ’’قریبی لاک ڈاؤن‘‘ جیسے حالات ظاہر کئے گئے ہیں کیونکہ علاقے میں ۶۵۰؍ عارضی اور مستقل چیک پوائنٹس کے معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے۳۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزارسے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں خطے کا ۶۰؍ فیصد ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *