May 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gtraina.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ہی امریکہ کی بھی نہیں سنی، پورے غزہ سے بے گھر ہوکر رفح پہنچنے والے ۱۵؍ لاکھ افراد کی جان کو خطرہ ۔

Palestinian youths search for bodies in the rubble after the attack on the Nusrat refugee camp on Saturday. Photo: INN

سنیچر کو نصرت رفیوجی کیمپ پر حملے کے بعد فلسطینی نوجوان ملبہ میں لاشیں تلاش کررہے ہیں۔ تصویر : آئی این این

عالمی برادری کی اپیلوں  کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اور امریکہ کے اس اعلان کے باوجود کہ وہ رفح پر فوج کشی کی تائید نہیں  کرتا، اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے رفح  میں  فوج کشی کو منظوری دیدی ہے۔
رفح پر زمینی حملہ کیوں  خطرناک ہے
  واضح رہے کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے اس طرح یکے بعد دیگرے مختلف علاقوں  پر حملے اور فوج کشی کی کہ پورے غزہ سے لوگ بے گھر ہوکر مصرکی سرحد پر واقع رفح شہر میں اکٹھا ہوگئے۔ یہاں   ۱۵؍ لاکھ فلسطینی پناہ لئے ہوئے ہیں، یہاں  مسلسل بمباری کرنے اور اقوام متحدہ کے امدادی مراکز کو نشانہ بنانے کےبعد اب اسرائیل زمینی حملے کی تیاری کررہاہے۔ حماس کو ختم کرنے کے نام پر کی جانے والی اس کارروائی میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اس منصوبے کی چہار سو مخالفت کی جارہی ہے۔ 
 ایک طرف گفتگودوسری طرف قتل عام
  اسرائیل یکے بعددیگرے اپنی حرکتوں   سے واضح کررہاہے کہ وہ حماس کو ختم کئے بغیر جنگ بند نہیں  کریگا۔ دوسری طرف ماہرین اسے آگاہ کر چکے ہیں کہ حماس کو ختم کرنے کا جو ہدف اس نے مقرر کیا ہے اس کا حصول ناممکن ہے۔ 
 امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ، جرمنی، نیدر لینڈس اور اسرائیل کے دیگر اتحادیوں   نے بھی تل ابیب کو رفح  پر فوج کشی سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے کیوں  کہ اس دوران بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں  کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف صہیونی فوجوں کا دعویٰ ہے کہ رفح حماس کاآخر مضبوط گڑھ ہے جسے وہ تباہ کردینا چاہتی ہیں۔
شہری آبادی کی منتقلی کا منصوبہ
 جمعہ کو نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کئے گئے ایک بیان میں  کہاگیا ہے کہ اسرائیلی فوج رفح پر فوج کشی کی مشق کررہی ہے ساتھ ہی شہری آبادی کی منتقلی کی حکمت عملی بھی تیار کی جارہی ہے۔ بہر حال اسرائیل کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب رفح پر فوج کشی کا ارادہ رکھتی ہے۔ 
ڈرا کر دباؤ بنانے کی کوشش
 قطر یونیورسٹی میں  گلف اسٹڈیز سینٹر کے لوسیانو ذاکرہ کے مطابق ’’رفح پر فوج کشی محض ایک شعبدہ بھی ہوسکتاہے تاکہ جنگ بندی کیلئے جاری مذاکرات میں  کچھ زیادہ حاصل کرلیا جائے۔‘‘ واضح رہے کہ جنگ بندی پر بات چیت کیلئے اسرائیل نے موساد کے سربراہ کی قیادت میں ایک ٹیم سنیچر کو قطر روانہ کردی ہے۔ 
’’ ہمیں کھانا چاہئے، ہم بھوکے ہیں‘‘
اس بیچ غزہ میں  فاقہ کشی شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ الجزیرہ نے ایک مصدقہ ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں  غزہ کی جنوبی سرحد پر جو مصر سے متصل ہے، ایک فلسطینی بچہ بجلی کے کھمبے میں چڑھا ہوا نظر آرہاہے۔ یہ بچہ دونوں ملکوں کے درمیان دیوار کی بلندی سے اوپر اٹھ جانے کے بعد مصرف کی طرف تعینات فوجیوں  سے چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ’’ہم بھوکے ہیں، ہمیں کھانا چاہئے، ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ مصر نے تل ابیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کی فراہمی میں حائل کی گئی رکاوٹوں  کو فوراً ہٹائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *