May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gtraina.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

رمضان المبارک کے پیش نظر غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے درمیان حماس لیڈر نے پائیدار امن کیلئے حماس کی رضامندی کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ اسرائیل کو معاہدے کے بنیادی اصولوں کا پابند بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ جنگ کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

Voices are being raised in support of a permanent ceasefire. Photo: PTI

مستقل جنگ بندی کی حمایت میں آواز بلند ہورہی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے اتوار کو کہا کہ تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے دوران ’’مثبت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے‘‘، اور ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ اسرائیل کو اس جامع معاہدے کی پابندی کرنے کا پابند بنایا جائے۔ 
اسماعیل ہانیہ نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’’ہم کسی ایسے معاہدے پر نہیں پہنچنا چاہتے جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم نہ کرے، یا بے گھر فلسطینیوں کو بغیر کسی شرط اپنے گھروں کو واپس نہ جانے دے، یا غزہ سے صہیونی دشمن کی روانگی کو یقینی نہ بنائے۔ ‘‘ 
ہانیہ نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے پر نہ پہنچنے کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ معاہدے کے بنیادی اصولوں کا پابند نہیں ہونا چاہتا۔ اس کے باوجود ہم مذاکرات جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں اور کسی ایسے طریق کار کیلئے تیار ہیں جو ان اصولوں کو حاصل کرے اور اس جارحیت کو ختم کرے۔ 

ہانیہ نے نشاندہی کی کہ اسرائیل، غزہ کے اندر قابض فوجی دستوں کی دوبارہ تعیناتی کے بارے میں ثالثوں سے بات کرتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اب تک بے گھر ہونے والوں کی ان کے رہائش گاہوں پر واپسی کا کو ئی ارادہ نہیں کیا ہے۔ 
انہوں نے جنگ کو روکنے کیلئے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کیلئے پانچ اصولوں کا اعادہ کیا، جن میں ایک جامع جنگ بندی، غزہ کی تمام سرزمین سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء، بے گھر ہونے والوں کی مکمل واپسی، امداد، پناہ گاہوں اور انسانی ہمدردی کے مسائل کو حل کرنا شامل ہیں۔ تعمیر نو، محاصرہ ختم، اور پھر ایک معاہدے تک پہنچنا جس کے تحت قیدیوں کےتبادلے کو ممکن بنایا جاسکے۔ 
انہوں نے اسرائیل پر غزہ پر حملہ روکنے کی واضح ضمانت دینے اور وعدہ کرنےسے بچنے کا الزام بھی لگایا۔ ہانیہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ دشمن ہمارے لوگوں کے خلاف نفسیاتی جنگ کر رہا ہے اور اسی کے ساتھ انتشار کے بیج بونے اور افراتفری پھیلانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں لیکن یہ تمام حربے ناکام ہو جائیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیلی قبضہ اور ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف تمام قتل عام اور نسلی تطہیر اور نسل کشی کے باوجود ہماری عوام کو بے گھر کرنے اور غزہ کو تقسیم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ ‘‘ہانیہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حماس فلسطین کی داخلی صورت حال کے انتظامات کی نگرانی کر رہاہے اور فلسطینی عوام کے اتحاد اور اپنے سیاسی اور قیادت کے اجزاء کو درست اور مستحکم بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرنے کے بارے میں پہلے سے زیادہ فکر مند ہے۔ 
انہوں نے یروشلم، مغربی کنارے اور تارکین وطن فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ ہمارے مقدس ترین مقامات یروشلم اور مسجد اقصیٰ، اسلامی اور عیسائیوں کی علامات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی سازش کے خلاف الاقصیٰ طوفان کی جنگ کی حمایت کریں۔ اس کے علاوہ رمضان کا مہینہ، جو پیر سے شروع ہوگیا ہے، ا نہوں نے اس ماہ میں خرچ کرنے پر بھی زور دیا۔ 
انہوں نے لبنان، یمن اور عراق میں مزاحمت اور غزہ کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے عرب اور دیگر عوام کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *